|
||||||||||||
|
||||||||||||
امریکہ میں ، مضبوط امید وار پر داو
کی طرف سے دانی ایل پاپئینز http://www.danielpipes.org/7993/ اصلی متن کا ترجمہ: In Mideast, Bet on a Strong Horse عرب والوں کا تشدد اور ظلم، اکثر مغربی لوگوں کو کشمکش میں ڈالتا ہے۔ نہ صرف خزب اللہ کا رہنما دعوی کرتا ہے " ہم موت سے محبت کرتے ہیں" بلکہ دوسرے بھی ، مثال کے طور پہ ایک چوبیس سالہ آدمی جو پیچھلے ماہ چلایا " ہم موت کو اُس سے زیادہ پیار کرتے ہیں جتنا کے تم زندگی کو " جب اُس نے آپنی کار کو نیو یارک سٹی برانکس وائیٹ سٹون پُل کے ساتھ اُڑایا۔
ایک بڑی سطح پر ایک سرکاری اندازے کے مطابق نومبر 2009 تک 15 ہزار دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ عربی بولنے والے ممالک کی حکومتیں قانون کی حکمرانی سے زیادہ جنگلی قانون پر انحصار کرتی ہیں، اسرائیل کے خاتمے کے لیے حال ہی میں نئی ہدایات جاری ہوئی ہیں ۔ اُن میں جدید ترین کو یمن میں نمایاں کیا گیا۔ بہت ساری شاندار کوشیش عرب والوں کی سیاسی بقا کی سمتوں کی وضاحت کرنے کے لیے کی گئی ، میری شخصی پسند کی جانے والی سٹڈیز ڈیوڈ پریسی جان اور فلپ سا زمین کی ہیں ۔ اب ان میں سٹرانگ حورس پاور، پولٹیکس اینڈدی قلیش آف عاریب سیٹزن کا اضافہ ہوا ( قمیتا 26 ڈالر ) یہ سمتھ کی طرف سے ایک دلچسپ لیکن ایک گہرے اور اہم تجربے کی کتاب ہے ۔ ویکلی سٹنڈر ڈ کے لیے ایک امریکی خط و کتابت ہے۔ سمتھ 2001ء کے اُسامہ بن لادن کے خیال کو سیاق و سباق کو گواہی کے طور پر لیتا ہے " جب لوگ ایک مضبوط گھوڑے اور ایک کمزور گھوڑے کو دیکھتے ہیں ، فطری طور پر ،جب سمتھ مضبوط گھوڑے کے اُصول کی بات کرتا ہے تو یہ دو عام پہلووں پر مشتمل ہے ۔ طاقت کا چھیننا اور اسے بجال کرنا ، یہ اُصول چھایا ہوا ہے کیونکہ عرب کی عوام کی زندگی کا امن کے اختیارات کی تبدیلی کے لیے یا طاقت کے اشتراک کے لیے کوئی ضابطہ نہیں اور اس لیے ہر محض ایک سیاسی کشمکش ہے جیسے کہ دو مضبوط گھوڑوں کے درمیان موت تک لڑائی " سمتھ مشاہدہ کرتا ہے کہ عربی بولنے والے وسطی مشرق کے ممالک کی سیاست معاشرے اور تہزیب کا مرکز تشدد ہے اور مزید مُکارنہ طور پر یہ مضبوط گھوڑے پر اپنی آنکھ رکھتے ہوے اُس پر شرطیں لگاتے ہیں۔ سمتھ دلائل پیش کرتا ہے کہ مضبوط گھوڑے کا اُصول مغربی امپریلنرم اور محہون ازم نہیں ہیں بلکہ یہ عربی بولنے والے وسط مشرق کے رہنے والوں کا بینادی کردار ہے ۔ مذہب اسلام بزات خود دونوں طرح سے ابتدائی طور پر مضبوط گھوڑے کے طریقہ کار کو پختہ کرتا اور پھر اس کو پھیلاتا ہے ، محمد اسلام کا پیغمبر ایک مضبوط شخص تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی شخصیت تھی۔ سنی مسلمانوں نے صدیوں تشدد " ظلم اور جبر کے ساتھ حکومت کی "ابن خلدون کی مشہور تاریخ کے نظریئے کی کتاب میں تشدد کے بیٹے کا ذکر ہے جس میں مضبوط گھوڑے کمزور گھوڑوں کی جگہ لیتے ہیں ۔ ڈیمسی جو غیر مسلم تھے اُن کی روز مرہ کی ذلت ان کی حکومت کی دلاتی ہے ۔ سمتھ کا منشور جدید وسطی مشرق کی تاریخ کی بیصرت پیش کرتا ہے ، وہ پین عرب قومیت کو قومی حکومت کے چھوٹے گھوڑوں کو بڑے گھوڑوں میں تبدیل کرنے کی ایک کوشش کے طور پر کرتا ہے اور اسلام ازم کو بطور ایک طاقتور اسرائیل کے خلاف خدمت کے طور پہ نائب مضبوط گھوڑے کے طور ہپ پیش کرتا ہے اور یہ دونوں یعنی متحدہ امریکہ کی ریاستوں اور سعودی مصری بلاک کے لیے ہے جو سرد جنگ کے بعد ایرانی بلاک کے ساتھ تھا۔ مضبوط گھوڑے کے ماحول میں جنگی قوتیں انتخاب سے زیادہ موضوع معلوم ہوتی ہیں ۔ مضبوط گھوڑے کی عدم موجودگی میں عرب آزادی پسند قوتیں ایک چھوٹی تحریک چلاتی ہیں ۔ امریکہ بحیثت طاقتوار غیر عرب اور غیر مسلم حکومت کے ناگزیر اور باقائدگی یعنی دونوں طریقوں سے ایک ابنئی امریکہ ازم کو تشکیل دیتا ہے ۔ یہ باتیں ہمیں اُن پالیسوں تک لے جاتی ہیں جو غیر عرب ادرکار بناتے ہیں۔ جب تک کہ وہ مضبوط ہوتے ہیں اور حقیقی قائم رہنے والے طاقت کو دیکھاتے رہتے ہیں ۔ سمتھ اس بات پہ زور دیتا ہے کہ وہ اس سے اپنی قوت کو کھوتے ہیں۔ بہت زیادہ اچھے آدمی کے طور پہ کہتا ہے کہ جنوبی لبنان اور غزہ سے آزادانہ طور پہ انخلاء ہمیں لازمی طور پہ نا کام بناتا ہے ۔ جارج ڈبلیوئبس کی تنظیم نے صیح طور پر ایک جمہوری منصوبے کا آغاز کیا۔ بڑی بڑی اُمیدیں بلند کی لیکن پھر وہ عرب کے آزادی پسند لوگوں کے ہاتھوں رد ہوئے کیونکہ انھوں نے اس کو جاری نہ رکھا۔ عراق میں تنیظم نے ایک جمہوری ذہنیت کے مضبوط شخصی نظرئیے کو اپنانے سے گریز کر دیا۔ مزید ہراں جب امریکی گورمنٹ نے اس کا آغاز کیا تو دوسری دایرانی قیادت) کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ علاقے میں انپی حکومت کو لاگو کرتے۔ ولیدجمبلد ایک ایرانی راہنما جو کہ مکمل سنجیدہ شخص نہیں تھا اُس نے خیال ظاہر کیا کہ واشنگن نے دمشق میں کار بم بھجیے ہیں پیغام کو عرب کے رہنے والے طریقہ کاروں کو سمجھنے کے لیے۔ سنتھ کا ایک سادہ اور کم و بیش ایک کائناتی اُصول عرب کے اندر فرقوں کی موت عزت کی موت دہشت گردوں کے حملوں اختیارات ، جنگ اور اس طرح کی بہت ساری چیزوں کی سمجھ کے لیے ایک ہتھیار ہے ۔ وہ تسلیم کرتا ہے کی مضبوط گھوڑے کا اُصول ہو سکتا ہے کہ مغرب والوں کے لیے غیر بیانیہ بنیاد ہو لیکن وہ اس کو صیحح مانتے ہوئے اسرار کرتا ہے کہ یہ ایک سرد حقیقت ہے جس کو باہر والوں کو ضرور پہچاننا چاہیے اس کا ذکر کرنا چاہیے اور اس کا جواب دینا چاہیے۔ Related Topics: History, Middle East patterns, US policy receive the latest by email: subscribe to daniel pipes' free mailing list This text may be reposted or forwarded so long as it is presented as an integral whole with complete information provided about its author, date, place of publication, and original URL. |
Latest Articles Join Daniel Pipes on a Fact Finding Expedition to Israel, March 2012
For full details click here ADVERTISEMENTS
Most Mailed |
|||||||||||
|
All materials written by Daniel Pipes on this site © 1968-2012 Daniel Pipes. Email: daniel.pipes@gmail.com You can help support Daniel Pipes' work by making a tax-deductible donation to the Middle East Forum. Daniel J. Pipes |
||||||||||||