|
||||||||||||
|
||||||||||||
سوئس مینار اور یورپی اسلام
کی طرف سے دانی ایل پاپئینز http://www.danielpipes.org/8031/ اصلی متن کا ترجمہ: Swiss Minarets and European Islam میناروں کی عمارت کی پابندی کے بارے حالیہ سوئس ریفرنڈم کی کیا اہمیت ہے ( مساجد کے اوپر مخروطی اشکال جن سے نماز کے لیے اذان ( بلاوا) دی جاتی ہے ) ؟ ہو سکتا ہے کہ کچھ 57.5 سے 42.5 فیصد فیصلہ تصدیق کر رہے ہوں کہ کوئی قانونی ترمیم تقریباً بے معنی دکھائی دیتی ہے ۔ سیاسی انتظامیہ نے زور ڈالتے ہوئے ترمیم کی مخالفت کی، پابندی شاید کبھی بھی اثر انداز نہ ہو۔ صرف 53.4 فیصد حلقے نے رائے دی¸پس تمام آبادی کے صرف 31 فیصد حصے نے پابندی کی تصدیق کی۔ پابندی، شدید اسلامی خواہش کی دھیان نہیں دیتی، قدرے مسلمان دہشت گردی کی طرف۔ یہ اسلام کے کسی عمل سے تصادم نہیں۔ یہ نئی مساجد کی تعمیر کو نہیں روکتی اور نہ ہی چاہتی ہے کہ سوئٹزلینڈ کے پہلے سے موجود میناروں کو منہدم کیا جائے۔ ممکن ہے کہ ووٹ برخاست کر دئیے جائیں، جیسے سوئٹزلینڈ کی نمایاں براہ راست جمہوریت کے عجیب نتیجہ کے طور پر، ایک رسم جو 1291 سال پرانی اور یورپ میں کہیں بھی نہیں ہے۔ جوزف جوف، جرمن کا مشہور تجزیہ کار ووٹ کو دیکھتا ہے کہ عوامی حمایت کی خواہش مند جماعت شدید نمایاں رد عمل کے طور پر تذلیل کے خلاف ہے سوئٹزلینڈ حالیہ سالوں میں یہ تذلیل جھیل چکا ہے جب دو کاروباری آدمیوں پر فوری طور پر حملہ کیا گیا اور سوئس صدر ذلیل ہوتے ہوئے انکو آزاد کرنے کے لیے بحث کرتے رہے۔ تاہم، میں دیکھتا ہوں کہ ریفرنڈم اور نتیجتاً اور سوئس سرحدوں کے لیے بہے خوب ہے۔ اول، یہ مسلم مسیحی تعلقات میں باہمی عمل کے نازک معاملات اٹھاتا ہے۔ چند مثالیں: روزری کی ہماری خاتون 2008 میں پہلا چرچ قطر میں کھولا، اس نے بہت چھوٹی صلیب، گھنٹی، گنبد، مینار یا علامتی بورڈ بہت چھوٹا بنایا۔ روزری کے کاہن، فادر توم ویزریکشن نے ان کی غیر موجودگی کی وضاحت کی: " خیال یہ ہے کہ رویے میں اختیار ہے کیونکہ ہم کسی حساسیت پن کو بھڑکانا نہیں چاہتے"۔ اور جب بالائی مصر میں ایک قصبے کے مسیحیوں نے نازلٹ الدرامان آخرکار چار سال بعد ارباب اختیار سے محنت طلب، بات چیت سے سمجھوتے کے لیے درخواست اور مسلے سے نبٹنے کہتے رہے، اکتوبر میں، مار۔ گرگس چرچ کے لڑکھڑاتے ہوئے مینار کی بحالی کے لیے اجازت حاصل کی، تقریباً 200 مسلمانوں پر مشتمل ایک ہجوم نے پتھراؤ کرتے ہوئے اور اسلامی اور فرقہ وارانہ نعرے لگاتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ مصری باشندوں کے لیے صورتحال بہت بُری ہے، انہوں نے پھر پوشیدہ گرجا بنانا شروع کردیتے ہیں۔ کیتھولک کلیسیا اور دیگر کیوں پوچھ رہی ہیں کہ مسیحیوں کو ایسی ہتک آمیز صورتحال کو برداشت کرنا چاہیے جبکہ مسلمان مکمل حقوق سے تاریخی مسیحی ممالک میں لطف اندوز ہوتے ہیں؟ سوئس ووٹ اس نئی روح میں مناسب ہے۔ اسلامی رنگ، یقیناً اس قسم کی عمارتی مساوات کو رد کرتے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ منوہر مُتقی نے اپنے سوئس ہم منصب کو ضبردار کیا کہ غیر متوقع نتائج کے لیے تیار رہے جو اس نے اسلام کے خلاف اعمال کیے ہیں، واضح طور پر دھمکی دیتے ہوئے کہ میناروں کی پابندی ایک بین الاقوامی معاملہ ہے بالکل ڈنمارک کے کارٹون کے بالمقابل جو 2006 میں فساد کا باعث ہوئے ۔ دوسرا، یورپ اپنی مسلمان آبادی کے احترام میں، فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ مستقبل کی تین بڑی توقعات سے ہر کوئی ایک دوسرے کے متوازی جا رہا ہے۔ مسلمان حاوی ہو رہے ہیں یا انہوں نے رد کر دیا ہے۔ پہلا بہت ناقابل یقین ہے لیکن دوسرا اور تیسرا برابر ممکن دکھائی دیتے ہیں۔ اس سیاق و سباق میں ، سوئس ووٹ اندازاً ایک اہم مکالف اسلامی خیالات کی جائز نمائندگی کرتا ہے۔ رائے دہی نے پورے یورپ میں تخلیقی مدد کی، جبکہ بڑے میڈیا کے ذرائع اور رہنما شخصیات کے بیانات نے براہ راست پولنگ کے ذریعے دور کا اشارہ کر کے مدد فراہم کی ہے۔ یہاں مندرجہ ذیل میں ایک چھوٹا سا نمونہ ہے:
ان وجوہات کی بنا پر سوئس رائے دہی یورپی اسلام کے لیے ایک ممکنہ بدلتے نقطے کو پیش کرتی ہے۔ Related Topics: Muslims in Europe receive the latest by email: subscribe to daniel pipes' free mailing list This text may be reposted or forwarded so long as it is presented as an integral whole with complete information provided about its author, date, place of publication, and original URL. |
Latest Articles Join Daniel Pipes on a Fact Finding Expedition to Israel, March 2012
For full details click here ADVERTISEMENTS
Most Mailed |
|||||||||||
|
All materials written by Daniel Pipes on this site © 1968-2012 Daniel Pipes. Email: daniel.pipes@gmail.com You can help support Daniel Pipes' work by making a tax-deductible donation to the Middle East Forum. Daniel J. Pipes |
||||||||||||